چنتامنی:23 /نومبر(محمد اسلم/ایس او نیوز)انسان نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے قدرتی نظام کے ساتھ جس جنگ کا آغاز کیا تھا آج وہی نظام ہمارے ماحولیات پر گہرے اثرات مرتب کررہا ہے کل تک جس آسانی کے ساتھ ہوا پانی دستیاب ہوتا تھا جس کے لئے کوئی قیمت نہیں ادا کرنی چاہے تھی آج وہی اکسیجن اور پانی کے لئے انسان ہزاروں روپیہ خرچ کرنے پر آمادہ ہوچکا ہے ان مذکورہ حالات کے لئے قدرت نہیں بلکہ انسان کی ہوس اور مفاد ذمہ دار ہے کل تک جن جنگلوں کو بے دردی کے ساتھ صفایا کیاگیا تھا کاش آج وہی جنگل ہمارے درمیان موجود ہوتے تو ہمیں ماحولیات کا تحفظ کرنے کی کوشش نہیں پڑتی تھی کیونکہ قدرت کی دین جنگلی پیڑ پودے نہ صرف ماحولیات کا تحفظ کرتے ہیں بلکہ آنے والی قدرتی آفات سے بچائے رکھنے میں کافی مدد گار ثابت ہوتی ہے مذکورہ خیالات کااظہار سینئر آدیب ایس۔راگھونات نے کیا۔انہوں نے آج تعلقہ کے چلکنر پور گرام کے سرکاری اسکول کے روبرو چکبالاپور۔کولار ۔ہسیرو ہُنا اسوسی ایشن زیر اہتمام 500پودوں کو لگانے کے مہم کا آغاز کرنے کے بعد خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہوا اور پانی کے بٖغیر زندگی کا تصور نہیں کیاجاسکتا صحت مند زندگی کے لئے صاف ہوا اور شفاف پانی ضروری ہے سینکڑوں سال قبل انسان کے مقابلہ آج کے انسان کافی کمزور ہے کیونکہ قدیم زمانہ میں انسان کافی توانا اور صحت مند ہوا کرتے تھے جس کی دیگر وجواہات کے علاوہ ایک اہم وجہ الودگی سے پاک ماحول بھی ہے۔ اس موقع پر کنڑا شاعر گولہلی کے۔نرسمہ اپا اسکول کے ہیڈ ماسٹر ہیچ۔وی۔وینکٹ رونپا ٹیچر ٹی۔کے۔نرسمہ اپا کے۔وی۔وینکٹ شیوپا ایم۔وی۔کرشنپا گوپال کرشنا سی۔منی راجو ایس۔سوما سری ،کے۔ایس ہرشت این۔نوین ہریش سمیت کئی ٹیچرس وغیرہ موجود رہے